| Intro | Noted Urdu fiction writer Joginder Paul was born in Sialkot in present day Pakistan and migrated to India at the time of Partition. |
| Is | Writer |
| From | India |
| Type | Literature |
| Gender | male |
جوگندر پال (انگریزی:Joginder Paul) بھارت کے ایک مشہور اردو ادیب تھے۔
پیدائش
جوگندر پال 5 ستمبر 1925ء کو سیالکوٹ، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ تقسیم ہند کے وقت بھارت آگئے۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی تاہم ان کی ابتدائی اور وسطانوی تعلیم اردو ذریعہ تعلیم سے مکمل ہوئی اور یہی ان کے ادبی اظہار خیال کی زبان بنی۔
تعلیم اور ملازمت
جوگندر نے ایم اے انگریزی ادب میں کیے اور پیشہ درس وتدریس سے جڑگئے۔ وہ مہاراشٹر کے ایک پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل کے طور پر وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔
اردو ادب سے وابستگی
جوگندر کا یہ نقطہ نظر تھا کہ اردو ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے اور ان کے لیے تہذیب کا حصہ ہونا ادب سے وابستہ ہونا ہی تھا۔ وہ ترقی پسند تحریک کا حصہ تھے۔ ان کی افسانہ نگاری بھارت ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے ادبی حلقوں میں پزیرائی پائی۔
تحریریں
جوگندر کی تخلیقات میں دھرتی کا کال (1961ء)، میں کیوں سقیم؟ (1962ء)، کھودو بابا کا مقبرہ (1994ء)، پرندے (2000ء) (سبھی افسانے)، نہیں رحمان بابو (افسانوں کا مجموعہ جس میں کچھ دوسطری تھے)، آمدورفت (1975ء)، بیانات (1975ء) (دو مختصر ناول)، بے محاورہ (1978ء)، بے ارادہ (1981ء)، نادید (1983ء)، خواب رو (1991ء) (دونوں ناول) زیادہ مشہور ہوئے تھے۔
لائبریری آف کانگریس کی دلچسپی
لائبریری آف کانگریس کی نئی دہلی کے دفتر کے جنوبی ایشیائی ادبی تحفظ منصوبہ (South Asian Literary Recordings Project) کے تحت جوگندر کی اور ان سے متعلق 22 تخلیقات حاصل کیے گئے تھے۔
اعزازات
- سال 1999ء-2000ء کا اقبال سمّان
- سارک حصول حین حیات ایوارڈ (SAARC Lifetime Achievement Award)
- قطر کا ایک اردو تصنیفی ایوارڈ
تخلیقی کام کے تراجم
جوگندر کی کہانیوں اور ناولوں کا ہندی، انگریزی اور کئی زبانوں میں ان کی بیوی کرشنا پال، بیٹی سُکریتا اور بھانجی اُوشا ناگپال اور کئی مصنفوں کی جانب سے ترجمہ کیا گیا تھا۔
انتقال
22 اپریل ، 2016ء کو جوگندر پال کا انتقال ہوگیا۔